پاکستان کی گہری ترین بندرگاہ گوادر – دبئی سے بی خوبصورت

براے مہربانی شیر کریں ، شکریہ

!جانیے

دورِ حاضر کی مصروف ترین زندگی نے انسان کو تھکا کر رکھ دیا ہے۔ جب یہ تھکن حد سے بڑھ جاتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ اپنی مصروف ترین زندگی کو پیچھے چھوڑ کر کسی خوبصورت  سی جگہ پر تفریح کی غرض سے نکل کھڑے ہوں اور اس مقصد کے لئے سمندر کا انتخاب ہمیشہ ہی سے انسان کی اولین ترجیحات میں سے ایک رہا ہے۔ عموماََ لوگ تفریح کے لئے دوبئی کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ وہاں کی بندرگاہ ایک عام پاکستانی کے لئے سستی ہونے کے ساتھ ساتھ  دنیا کی چند خوبصورت ترین بندر گاہوں میں سے ایک ہے۔

لیکن ذرا ٹھہرئیے ! کیا آپ جانتے  ہیں کہ آپ کے اپنے ملک پاکستان  میں دبئی سے زیادہ خوبصورت اور جدید  بندرگاہ تکمیل کے مراحل میں ہے؟

نہیں ناں! آئیے ہم آپ کو بتائیں کہ بلوچستان کے علاقے مکران سے متصل گوادر کے ساحل پر آپ دبئی سے بھی زیادہ خوبصورت بندرگاہ دیکھ سکیں گے۔

گوادر بندرگاہ کی تاریخی حیثیت

کراچی سے  535 کلو میٹر دور یہ بندرگاہ  بلوچستان کے جنوب مغرب میں بحیرہٴ عرب کے ساحل پر واقع ہے۔ لفظ گوادر 2 بلوچی الفاظ  پر مشتمل ہے۔ گوا  یعنی ہوا  اور  در یعنی دروازہ۔ مکران کا یہ  بنجر  پہاڑی علاقہ ایک عرصہ تک ایران کا حصہ رہا ہے۔  1797 میں گوادر   عمان کا حصہ بن گیا۔ 1958 میں پاکستان نے 10 ملین ڈالر کے عوض اسے عمان سے خرید لیا۔ 1993 میں گوادر کو بین الاقوامی درجے کی بندرگاہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

گوادر بندرگاہ کی جغرافیائی اہمیت

چین جو کہ ایک عرصے سے اپنی مصنوعات کی دنیا بھر میں  تجارت کر رہا ہے  اس کے لئے گوادر کی بندرگاہ ایک خزانے سے کم نہیں ۔ کیونکہ گوادر کے ایک طرف مڈل ایسٹ،  بحیرہٴ روم  اور یورپ وغیرہ جیسے اہم مقامات ہیں تو دوسری جانب  چین ہے۔ اس بندرگاہ کے قیام سے چین کو نہایت  مختصر راستے سے اپنی مصنوعات دنیا بھر میں بھیجنے کی آسانی حاصل ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ چین  گوادر کے منصوبے میں اس قدر دلچسپی لے رہا ہے۔

گوادر بندرگاہ کی اقتصادی اہمیت

 7 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی والے  شہر گوادر میں جدید دور کی سہولتوں سے آراستہ  بندرگاہ کی تکمیل اور چائنا پاکستان  اکنامک کوریڈور  (CPEC) منصوبے کے اعلان کے بعد  اس بندرگاہ کی اقتصادی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق گوادر آئندہ چند برسوں میں دبئی سے بھی  بڑا صنعتی و تجارتی مرکز بن سکتا ہے۔ آنے والے وقت میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین، افغانستان اور وسطی ایشیا کے بیشتر ممالک کی بحری تجارت کا  زیادہ تر دارو مدار اسی بندر گاہ پر ہوگا۔ اس اقتصادی راہداری  کی بدولت لاکھوں پاکستانیوں  کو نہ صرف روزگار ملے گا بلکہ علم و ہنر کے راستے بھی کشا ہوں گے۔

ہر پاکستانی کی دعا ہے کہ جلد سے جلد یہ منصوبہ پایہ ٴ تکمیل کو پہنچے تاکہ وطنِ عزیز خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو سکے۔  آمین

اگرآپ کو یہ آرٹیکل اچھا لگا ہوتو اس کو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیر کریں، اور نیچے کمینٹ کر کے اپنی راۓ سے بھی آگاہ کیجیے. شکریہ

براے مہربانی شیر کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں