پاکستان کے شمالی علاقہ جات – جنّت کے مناظر

براے مہربانی شیر کریں ، شکریہ

جنت کا تصور ہی انسان کو تازہ دم کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں کی روشنی بڑھا دیتا ہے  پر جناب!  جنت کس نے دیکھی ہے؟ دوستو اگر آپ زمین پر جنت کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں تو  پاکستان کے شمالی علاقہ جات آپ کا بہترین انتخاب ثابت ہوں گے۔ پاکستان کا شمالی حصہ یوں تو پورا ہی حسن و خوبصورتی کا شاہکار ہے لیکن  ان میں خاص طور پر سکردو، شوگران،  ناران،  کاغان،  شنگریلا وغیرہ  قابلِ ذکر ہیں اور ان کی یہی  خوبصورتی دنیا بھر کے سیاحوں  کی بھرپور توجہ کا مرکز ہے۔

شوگران

 شوگران ایڈونچر پسند کرنے والے سیاحوں کے لئے جنت نظیر ہے۔سطح زمین سے 10500 فیٹ کی بلندی پر شوگران کےسب سے اونچے پوائنٹ  پایا کا سفر انتہائی دلفریب اور پرفضا ہونےکے ساتھ ساتھ بہت ہی خطرناک بھی ہے۔  ایک بے حدپتلی سی سڑک کے ذریعے شوگران سے پایا  تک کا سفر کیا جاتا ہے جو کہ نہایت خطرناک ہے۔  اس سڑک پر سیاح اپنی گاڑیاں تک نہیں لے جا سکتے انہیں جیپوں کے ذریعے یہ سفر طے کرنا پڑتا ہے۔   بادلوں کے عین اوپر یہاں کا منظر انتہائی خوبصورت  منظرپیش کرتا ہے۔  پایا سے چند کلو میٹر نیچے ایک اور مقام سری ہے  جو کہ جیپ کے ذریعےپایا سے 7 منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔ یہا ں موجود  ایک چھوٹی سی لیکن خوبصورت جھیل دراصل سری کہلاتی ہے جس کی وجہ سے اس مقام کا نام سری پڑ گیا ہے۔

People Sitting in Shogran Vally
شوگران ویلی میں بیٹھے ہوے کچھ لوگ

ناران

ناران، شوگران کے دائیں جانب ناران ہے جو کہ شوگران ہی کی طرح پر خطر راستے سے ہوتا ہوا ایک بلند مگر نہایت دلفریب مقام ہے۔ یہاں پر سیاحوں کے لئے کیمپوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے لیکن کچھ سیاح جو کہ زیادہ تر طلباء  و طالبات کے گروپ ہوتے ہیں اپنے لئے کیمپوں کا انتظام خود بھی کر لیتے ہیں۔سیاحوں کے لئے کینٹین اور   گھڑ سواری، وغیرہ کا بھی انتظام ہے۔  یہاں سے 3 گھنٹے کی ڈرائیو پر ایک اور مقام ہے جسے ماکڑا کہا جاتا ہے۔عام طور پر یہاں بادلوں کی وجہ سے دھند کا راج رہتا ہے لیکن جب بادل نہیں ہوتے تو اس مقام سے شوگران کی خوبصورت پہاڑی چوٹیاں دیکھنے والوں کا دل موہ لیتی ہیں۔

نارن ویلی کاخوبصورت پل

کاغان

کاغان، شوگران کےبائیں جانب کاغان ہے جو کہ خیبر پختون خواہ کی ایسی وادی ہے جو اپنے قدرتی حسن کے باعث عالمگیر حسن کی حامل ہے۔ دریائے کنہار اسی وادی میں بہتا ہے۔ اس کا دوسرا حسین ترین نظارہ جھیل سیف الملوک ہے  جو کہ کاغان کے تقریباََ آخری کونے میں وقع ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں  رات کے وقت پریاں اترتی ہیں۔

saif ul malook lake kaghan

بلتستان

بلتستان میں تیس سے زائد دنیا کے بلند  ترین پہاڑ  واقع ہیں جن میں کے ٹو سرِ فہرست ہے۔  سبین  کے بعد دنیا کا سب سے  بڑا گلیشئیر کا ذخیرہ  بھی یہاں موجود ہے۔  جن میں سیاچن گلیشئیر، بلترو گلیشئیر اور بیافو گلیشئیر  سرِ فہرست ہیں۔ اسی خطے میں دنیا کے  بلند ترین ہموار میدا ن دیوسائی  اور ہمالیہ اور قراقرم کا عظیم پہاڑی سلسلہ بھی واقع  ہے۔ یہ خطہ جھیلوں ، آبشاروں،چشموں، ندیوں،  دریاوٴں، جنگلات، سر سبزوشاداب میدانوں، خوبصورت وادیوں اور برف پوش پہاڑوں ، جنگلی حیات، معدنیات سمیت  قدرت کا بے پناہ حسن اور سیاحوں کی بے حد دلچسپی رکھتا ہے۔

اسکردو

اسکردو رہنے کے لئے بے حد دوستانہ اور اچھی جگہ ہے۔یہاں کا سب سے خاص مقام شنگریلا ہے۔ شنگریلا کا نام سنتے ہی ذہن میں فطرت کے حسین مناظر گھومنے لگتے ہیں۔اسکردو کے برف پوش پہاڑوں کے بیچ سجی یہ خوبصورت دنیا حکومت کی توجہ کی منتظر ہے۔ یہاں پر ایک انوکھا   کیفے بھی ہے جو کہ ایک عجیب کہانی اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ یہ کیفے دراصل ایک طیارے میں بنا ہوا ہے۔  شنگریلا میں موجود خوبصورت جھیل جسے شنگریلا جھیل کے ساتھ ساتھ اپر کچورا جھیل بھی  کہا جاتا ہے  پاکستان کی دوسری سب سے خوبصورت جھیل ہے۔ اس جھیل کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ اس جھیل میں پانی کہاں سے آتا ہے۔

سرزمینِ پاکستان  قدرتی خوبیوں اور خزانوں سے مالا مال ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس جانب توجہ دے تاکہ سیاحوں کی آمدورفت میں مزید اضافہ ہو سکے۔

اگرآپ کو یہ آرٹیکل اچھا لگا ہوتو اس کو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیر کریں، اور نیچے کمینٹ کر کے اپنی راۓ سے بھی آگاہ کیجیے. شکریہ

براے مہربانی شیر کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں