کراچی اسٹاک ایکسچینج دلچسپ حقائق

براے مہربانی شیر کریں ، شکریہ

پاکستان کی سب سے بڑی سٹاک ایکسچینج کراچی میں ہے۔ یہ  ستمبر 1947 میں قائم ہوئی۔ قیام کے آغاز میں اس کےصرف  90  ارکان تھے ۔ابتداء میں صرف پانچ کمپنیاں رجسٹر ہوئیں جن سے 37 ملین روپے  کا سرمایہ ادا ہوا۔ آج کل یہ پاکستان کی سب سے بڑی سٹاک ایکسچینج بن چکی ہے جس میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد اب  724  ہو چکی ہےجبکہ 200 کے قریب ارکان ہیں ۔  2002  میں کراچی سٹاک ایکسچینج کو دنیا کی بہترین سٹاک ایکسچینج قرار دیا گیا۔

اسٹاک ایکسچینج کیا ہے؟

اسٹاک دراصل  مختلف کاروباری کمپنیوں کے لئے کیپٹل اسٹاک کی جانب سے کاروبار کے لئے فراہم کردہ  سرمایہ کی نمائندگی کرتا ہے۔یہ کاروبار کے قرض داروں کے لیے محافظ  کے طور پر کام کرتا ہے۔  اسٹاک جائداد اور کاروبار کے منافع سے مختلف ہے لہٰذا  مقدار اور قیمت میں اتار چڑھاؤ بھی ممکن ہے۔

شئیرز کا کاروبار ایسے ہوتا ہے کہ بڑے ادارے بینکوں سے قرض لینے کی بجائے اپنے کچھ کاروباری حصے عوام کو فروخت کر نے کی دعوت دیتے ہیں۔  یہ شئیر ز کہلاتے ہیں۔ ان شئیر خریدنے والوں کو شئیر ہولڈرز کہتے ہیں۔ جب سالانہ منافع  حاصل ہوتا ہے تو اس کو شئیر ہولڈرز میں ان کی  سرمایہ کاری کے مطابق تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

انڈیکس

انڈیکس سے مراد  دراصل یہ حساب کتاب ہے کہ شئیرز کی قیمت میں کتنا  اضافہ ہوا یا  کتنی کمی۔ اسی کی بنیاد پر ظاہر ہوتا ہے کہ آج انڈیکس کتناچڑھا یا کتنا  گرا۔

اگر کمپنیوں کے شئیرز کی قیمت بڑھ جائے تو اس سے انڈیکس میں تیزی آتی ہے ۔ ا گر خریداری کم ہو او ر کاروبار نہ ہو تو انڈیکس گر جاتا ہے  اور اسے مندی کہا جاتا ہے۔

شئیرز حاصل کرنے کا طریقہ

حصص خریدنے کے لئے باقاعدہ طور پردستاویزات تیار کئے جاتے ہیں۔  خریدنے والے  کا نام اور  پتہ وغیرہ درج کیاجاتا ہے اور جب منافع کا اعلان ہوتا ہے تو اسٹاک ایکسچینج کے کارکن منافع کی رقم آپ کے بینک اکاؤنٹ  میں‌پہنچاتے ہیں۔

عوامل

ملکی حالات بہتر ہوں تو سرمایہ دار یا عوام سرمایہ کاری  کرتے ہیں ورنہ اگر ملکی حالات مستحکم نہ ہوں تو سرمایہ دار  سرمایہ کاری سے اجتناب کرتا ہے۔

روپے کی قیمت میں کمی ہو یا  پیٹرول کی قیمت میں اضافہ، یہ سب نفع و نقصان کے اہم عوامل ہوتے ہیں۔

منافع یا نقصان کا تعلق ملکی حالات یا  کاروباری حالات وغیرہ سےہوتا ہے مثلاََ   سیمنٹ کے حصص کی قیمتیں کسی بڑے ڈیم یا تعمیراتی منصوبے کے اعلان کے بعد بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں وغیرہ۔ اسی طرح ہلکی سی افواہ بھی کسی کمپنی کے شئیرز کو ڈبو سکتی ہے۔

براے مہربانی شیر کریں ، شکریہ

اپنا تبصرہ بھیجیں